6 اپریل 2013 - 19:30

شام کے صدر بشار اسد نے بين الاقوامي برادري کو خبردار کيا ہے کہ شام کا بحران پورے خطے کو اپني لپيٹ ميں لے سکتا ہے -

ابنا: صدر بشار اسد نے ترکي کے ايک ٹي وي چينل سے انٹرويو ميں کہا  ہے کہ عالمي برادري اچھي طرح جانتي ہے کہ اگر دہشتگرد دمشق حکومت کا تختہ الٹنے ميں کامياب ہوگئے تو بدامني اور بحران، شام کے پڑوسي ملکوں کو بھي اپني لپيٹ ميں لے لے گا - انہوں نے کہا کہ دمشق حکومت کا تختہ الٹنے يا ملک کي تقسيم کي صورت ميں يہ خطہ عرصے تک بحران کي لپيٹ ميں رہے گا - انہوں نے کہا کہ شام ميں دہشتگردانہ حملے جاري رہنے سے نہ صرف يہ کہ مشرق وسطي ميں عدم استحکام پھيلے گا بلکہ مغربي حکومتيں بھي اس سے محفوظ نہيں رہيں گي –صدر بشار اسد نے شام کے تعلق سے ترکي کي پاليسي کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ، دہشتگردوں کے حملوں اور  شام کے بے گناہ شہريوں کے قتل عام ميں  شريک ہے - انہوں نے کہا کہ کسي بھي حکومت کے قانوني ہونے کا تعين بيروني طاقتيں نہيں بلکہ اس ملک کے عوام کرسکتے ہيں –شام ميں مداخلت کرنے والے ملکوں کو بشار اسد کا يہ انتباہ ايک ايسے وقت ہے جب لبنان کے ٹيلي ويژن چينل الميادين نے خبردي ہے کہ يورپي ملکوں کو اس بات کي تشويش لاحق ہے کہ دہشتگرد عناصر شام سے واپس يورپ لوٹ سکتے ہيں - الميادين ٹي وي کي رپورٹ ميں کہا گيا ہےکہ يورپ کي انٹليجنس ايجنسيوں نے خبردار کيا ہے کہ مختلف ملکوں سے دہشتگردوں کو شام بھيجنے کے عمل ميں شدت آنے سے يورپ کے لئے بھي خطرے کي گھنٹي بج گئي ہے –فرانس کے صدر اولينڈ اور اس ملک کے وزير خارجہ لوران فابيوس نے شام ميں دہشتگردوں کو اب اس سے زيادہ ہتھيار فراہم کئے جاني کي مخالفت کي ہے - اس درميان برطانوي وزارت داخلہ نے اپنے ملک کي پارليمنٹ کو روپورٹ دي ہے کہ شام اس وقت دہشتگردوں کے اڈے ميں تبديل ہوگيا ہے –اوريہ امريورپ کے لئے بھي خطرناک ہوسکتا ہے کيونکہ دہشتگردوں کي سرگرمياں صرف شام تک ہي محدود نہيں رہيں گي - بلکہ وہ اپني سرگرميوں کا دائرہ يورپ تک بھي بڑھا سکتے ہيں –دوسري طرف جرمن چانسلر مرکل نے بھي اپنے ملک کي انٹليجنس ايجنسيوں کي اس درخواست کا مثبت جواب ديا ہے کہ شام ميں دہشتگردوں کي اب اس سے زيادہ اسحلہ جاتي حمايت نہ کي جائے –دريں اثنا امريکي صدر باراک اوباما اور اور روس کے صدر ولاديمير پوتين جون کے آخر ميں صنعتي ملکوں کے سربراہي اجلاس کے موقع پر جو شمالي آئرلينڈ ميں ہونے والا ہے شام کے بحران پر بات چيت کرنےوالے ہيں جبکہ روسيي صدر اتوار کو جرمني کا دورہ کرنےوالے ہيں جہاں وہ جرمن چانسلر سے شام کے بحران پر بات چيت کريں گے....../169